حضرت دانیال علیہ السلام نے فرمایا ہے اگر دیکھے کہ اس کے ہاتھ میں چار سے زیادہ دینار ہیں ۔ دلیل ہے کہ اس کو کوئی بری چیز پہنچے گی یا کوئی بات سنے گا جو اس کو معلوم ہو گی ۔ حضرت ابن سیرین رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ہے ۔ اگر خواب میں اس کے پاس پانچ عدد درم (یعنی پیسے) ہیں ۔ دلیل ہے کہ وہ کوئی کام پسندیدہ اور نیک عمل میں لائے گا اور اگر اس کے پاس ایک دینار یا ہزار دینار ہیں ۔ دلیل ہے کہ ایسا علم حاصل کرے گا کہ جس سے اس کو دینا ملیں گے لیکن ان کا شمار درست ہونا چاہئے ۔ اور اگر دیکھے کہ اس نے کسی کو دینار دیا ہے یس ضائع ہوا ہے دلیل ہے کہ فرزند کی طرف سے اس کو مصیبت پہنچے گی اور اگر دیکھے کہ اس کے پاس بہت سے دینار ہیں دلیل ہے کہ اس کو رنج پہنچے گا ۔ اور اہل تعبیر نے بیان کیا ہے کہ خواب میں دینار ادا کرنے کی امانتیں ہیں ۔ فرمان حق تعالیٰ ہے ۔ و منھم من انا تا منہ بدینار لا یولہ الیک(اور ان میں سے بعض لوگ ایسے ہیں ۔ اگر تو ان کے پاس ایک دینار امانت رکھے تو وہ ادانہ کریں گے ) اور اگر اپنے ہاتھ کی ہتھیلی پر پانچ دینار دیکھے ۔ دلیل ہے کہ پانچ وقت کی نماز ادا کرے گا ۔ اور اگر دیکھے کہ اس کے پاس بہت سے دینار ہیں اور کسی محفو ظ جگہ پر رکھے ہیں ۔ دلیل ہے کہ مسلمانوں کی امانت گاہ میں رکھے گا ۔ اور اگر دیکھے کہ دینار تقسیم کر رہا ہے ۔ دلیل ہے کہ لوگ امرو معرود کرے اور امانت گزارے گا ۔
حضرت جابر مغربی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اگر خواب میں دیکھے کہ اس نے ایک دینار پایا ہے ۔ دلیل ہے کہ امانت سپرد کرنے کے لیے اس سے قبالہ لکھائیں گے ۔ اور بسا اوقات خواب میں دینار دیکھا جاتا ہے اور بیداری میں وہی ملتا ہے
حضرت اسماعیل اشعت رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ہے کہ دینار خواب میں دیکھنا دین اور راہ راست ہے ۔ جب تک کہ دینار پر تصورنہ ہو ۔ اگر دیکھے کہ اس کے پاس دینار ہے ۔اس کی ایک طرف اللہ تعالیٰ کا نام ہے اور دوسر ی طرف تصور ہے ۔ اگر صاحب خواب مسلمان ہے تو متد ہو گا اور اگر کافر ہے تو مسلمان ہو جائے گا ۔
حضرت جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ خواب میں دینا ر پانچ نمازیں ہیں ۔ اور اگر دینارجفت دیکھے تو دین پاک اور علم با منفعت کی دلیل ہے ۔ اور اگر شمار میں طاق دیکھے تو اس کی تاویل اول کے خلاف ہے ۔ حضرت حافظ معبر رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ہے کہ خواب میں دینار پانچ نمازیں ہیں اور کنیز ہے اور بہت سے دینار بہت بامال ہے جو رنج اور جھگڑ ے سے حاصل ہوتا ہے ۔